Wording – Ali(a.s) ki Inqilaabi Zindagi se – Ali Safdar
صحفہ اول / اردو نوحے / علی صفدر / علی(ع) کی انقلابی زندگی سے

ہلال نقوی

علی صفدر
شاعر: ہلال نقوی
نوحہ خواں : علی صفدر
سال : —-
کمپوزر : زین عباس
اس کلام کے تحریر کرنے میں اگر کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہوں تو اس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں
علی کی انقلابی زندگی سے
نئی تاریخ تیور مانگتی ہے
نظر تیری بھٹکتی ہے کہاں پر
اسے ٹہرا علی کی داستاں پر
پہنچنا ہے جو حق کے آستاں پر
کفن بردوش بڑھنا ہے یہاں پر
یہ وہ منزل ہے جو سر مانگتی ہے
خطابت کے ہیں گر جوہر دکھانے
نئے انداز سے دل ہے جگانے
کھڑے ہیں ہاتھ پھیلاۓ زمانے
لٹا نہج البلاغہ کے خزانے
زباں تہذیب منبر مانگتی ہے
ارادے فکر کامل ڈھونڈتے ہیں
تمناؤں کا حاصل ڈھونڈتے ہیں
بھنور میں ہیں تو ساحل ڈھونڈتے ہیں
مسافر اپنی منزل ڈھونڈتے ہیں
نظر خود علم کا در مانگتی ہے
اگر دل میں عمل کی لو بڑھائيں
مسلماں ساری دنیا کو ہلائيں
قدم آگے مگر کیسے بڑھائيں
ابھی خیبر شکن ہیں کب ادائيں
ابھی تلوار جوہر مانگتی ہے
یہ دنیا ہاتھ میں خنجر لیے ہے
یہ دنیا ظلم کا دفتر لیے ہے
یہ دنیا نقوت عنتر لیے ہے
یہ دنیا مرحبی تیور لیے ہے
یہ دنیا ضرب حیدر مانگتی ہے
مٹا دے جو اداۓ کافرانہ
گرا دے جو در جہل زمانہ
خِـرَد کو دے دے صبح فاتحانہ
قیادت کی نگاہيں عارفانہ
وہی مرد غضنفر مانگتی ہے
مٹا دے ظلم کی جو کج کلہائ
علی کے نام سے لرزہ ہے شاہی
زمیں پر دے دے پھر حق کی گواہی
وہی ہے عظمت شان الہی
زمین نفس پیعمبرۖ مانگتی ہے
نہیں آساں شہادت کی ادائيں
ہو سجدے میں جبیں جب ضرب کھائيں
نظر دیتی ہو قاتل کو دعائيں
جو پیاسا ہو تو پانی بھی پلائيں
شہادت قلب حیدر مانگتی ہے
ہوۓ ہیں صاحبان حق جو قرباں
جماعت ہوگئ شہہ کی پریشاں
زمیں پر بہہ گیا خون شہیداں
فضا پر چھاگئ شام غریباں
بہن بھائ سے چادر مانگتی ہے
یہ ہے وہ امتحان گاہ محبت
جہاں ہے موت کے قدموں کی وحشت
یہ اطفال حسینی کی ہے ہمت
کہ ہے ان کی طرف چشم شہادت
قضا بانو سے اصغر مانگتی ہے
ہلال آساں نہیں دعوی وفا کا
صدا دیتا ہے ہر منظر قضا کا
کڑا ہے امتحاں دشت بلا کا
تقاضا ہے یہی بس کربلا کا
وفا اس راہ سے سر مانگتی ہے
علی کی انقلابی زندگی سے
نئی تاریخ تیور مانگتی ہے
http://www.xainabbas.wordpress.com
No trackbacks yet.