Lyrics – Qaid Khaney main talatum – Nadeem Sarwar 2007

صحفہ اول / اردو نوحے / سید ندیم رضا سرور / قید خانے میں تلاطم ہے

نو�ہ خواں سید ندیم رضا سرور
نوحہ خواں سید ندیم رضا سرور

شاعر : مرزا دبیر
نوحہ خواں : ندیم رضا سرور
سال : 2007
کمپوزر : زین عباس
اس نوحے کے تحریر کرنے میں اگر کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہوں تو اس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں

یہ نوحہ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے دئیے گئے لنک پر کلک کریں
قید خانے میں تلاطم ہے کہ ہند آتی ہے.MP3
(Right Click / Save Target as or copy paste the link into new browser)

ہاۓ سادات اور زندان ‘ ہاۓ سادات اور یہ زندان
ہاۓ سادات ہاۓ زندان ہاۓ سادات ہاۓ زندان
قید خانے میں تلاطم ہے کہ ہند آتی ہے
دختر فاطمہ غیرت سے موئی جاتی ہے
قید خانے میں تلاطم ہے کہ ہند آتی ہے

آسماں دور زمیں سخت کدھر جاؤں میں
یہی بہتر ہے کہ دنیا سے گزر جاؤں میں
بیبیوں مل کے دعا مانگو کہ مر جاؤں میں
موت آتی ہی نہیں جان کھنچی جاتی ہے
قید خانے میں تلاطم ہے کہ ہند آتی ہے

آمد ہند کا غل عترت شبیر میں ہے
شور ماتم حرم صاحب تطہیر میں ہے
کہتی ہے جاؤں کہاں پاؤں تو زنجیر میں ہے
پاؤں اٹھتا ہے تو زنجیر لپٹ جاتی ہے
قید خانے میں تلاطم ہے کہ ہند آتی ہے

تھا ادھر بی بی سکینہ سے یہ زینب کا بیاں
ہند دربار سے جب آئے گی سوئے زنداں
صبر تم کو ہے دکھانا نہ اٹھے شور و فغاں
ہاۓ یہ دن بھی اسیری تمہیں دکھلاتی ہے
قید خانے میں تلاطم ہے کہ ہند آتی ہے

در زنداں پہ ہوا اتنے میں انبوہ کمال
زن حاکم کا ہے زنداں میں نزول و اجلال
قیدیوں اٹھہ کے دعا دے کے کرو استقبال
زوجہ حاکم دوراں ہیں جو یہ آتی ہے
قید خانے میں تلاطم ہے کہ ہند آتی ہے

ہند نے دیکھ کہ رانڈوں کی طرف دی یہ صدا
کس کا یوسف ہے یہ زنداں میں گرفتار بلا
بیبیاں کس کی ہیں رکھتی کیوں نہیں سر پہ ردا
ان کے چہروں سے تو کچھ اور جھلک آتی ہے
قید خانے میں تلاطم ہے کہ ہند آتی ہے

دیکھتی کیا ہے کہ اک شیر ہے آہن میں نہاں
لاغر و خستہ تن و فاقہ کش و تشنہ دہاں
نہ تو چلنے کی سکت ہے نہ کوئی رشتہ جاں
استخوانوں سے لرزنے کی صدا آتی ہے
قید خانے میں تلاطم ہے کہ ہند آتی ہے

آئی نزدیک جو سجاد کے ہند دلگیر
بولی وہ کون سی عسیاں  پہ ملی یہ تعزیر
بولے دسویں تھی محرم کی جو پہنی زنجیر
آج تقدیر بھی قیدی ہمیں کہلاتی ہے
قید خانے میں تلاطم ہے کہ ہند آتی ہے

ہند نے پوچھا مرض کیا ہے؟ کہا بے پدری
گھر جو دریافت کیا؟ کہنے لگے دربدری
بولی لیتا ہے خبر کون؟ کہا بے خبری
جو خبر گیر تھے ان کو تو لحد بھاتی ہے
قید خانے میں تلاطم ہے کہ ہند آتی ہے

بابا صاحب کے گلے پر جو نہ خنجر پھرتا
ان کے سر کھلتے نہ میں کانٹوں پہ در در پھرتا
اور مدینے کی طرح سب کو میں لے کر پھرتا
یاد حضرت کو وطن کی ہمیں تڑپاتی ہے
قید خانے میں تلاطم ہے کہ ہند آتی ہے

ہند نے نام مدینے کا جو عابد سے سنا
خاک پر بیٹھ گئی حال یہ تاغیل ہوا
بولی کیا زینب و کلثوم سے نسبت ہے بھلا
ایسے چہروں سے تو خوشبو ء وفا آتی ہے
قید خانے میں تلاطم ہے کہ ہند آتی ہے

بولیں زینب کہ نہ لے زینب و کلثوم کے نام
وہ نبی زادیاں ہیں قید میں ان کا کیا کام
ہند بولی انہی باتوں میں ہے سب ان کا کلام
کیوں میری روح تمہیں دیکھ کے گھبراتی ہے
قید خانے میں تلاطم ہے کہ ہند آتی ہے

جو بھی صورت ہے وہ معصوم نظر آتی ہے
قدرت خالق قیوم نظر آتی ہے
کوئی زینب کوئی کلثوم نظر آتی ہیں
ان سے تقدیر یہ کس حال میں ملواتی ہے
قید خانے میں تلاطم ہے کہ ہند آتی ہے

گرد عابد کے پھری پھر وہ  بحالِ تغئیر
بولے وہ کون یہ چلائی کنیز شبیر
السلام اے رسن و طوق سلاسل کے اسیر
نوحہ پڑتی ہوئی قدموں میں گری جاتی ہے
قید خانے میں تلاطم ہے کہ ہند آتی ہے

بس دبیر اب غم شبیر سے لرزاں ہے جگر
ہند بھی محو عزا آج ہوئی ننگ سر
قید خانے میں ہوا سینہ زنی سے محشر
یہی مجلس ہے جو خود مرثیہ کہلاتی ہے
ہاۓ سادات اور زندان

http://www.xainabbas.wordpress.com

شائع کردہ

2 خیالات “Lyrics – Qaid Khaney main talatum – Nadeem Sarwar 2007” پہ

اپنی راۓ دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s