Lyrics – Na ro Mola – Nadeem Sarwar 2009

صحفہ اول / اردو نوحے / سید ندیم رضا سرور / نہ رو مولا

نو�ہ خواں سید ندیم رضا سرور
نوحہ خواں سید ندیم رضا سرور

شاعر : ریحان اعظمی
نوحہ خواں : ندیم رضا سرور
سال : 2009
کمپوزر : زین عباس
اس نوحے کے تحریر کرنے میں اگر کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہوں تو اس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں

یہ نوحہ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے دئیے گئے لنک پر کلک کریں
نہ رو مولا.MP3
(Right Click / Save Target as or copy paste the link into new browser)


نہ رو مولا ، نہ رو مولا
ایہا المظلوم , ایہا المظلوم
نہ رو مولا ، نہ رو مولا

منہال نے ایک دن آکے کہا
اے مولا میرے اے زین العباء
غم زیادہ کہاں گزرے تم پر
دل تھام لیا خوں رونے لگے
خوں روتے ہوئے بس اتنا کہا
الشام الشام الشام الشام

منہال تڑپ کر کہنے لگا
رونے کا سبب مولا ہے کیا
میراث شہادت آپ کی ہے
مولا نے کہا لاریب مگر
اف تو نے نہیں انصاف کیا
بیشک میراث شہادت ہے
یہ آل نبی کی فطرت ہے
سر بے پردہ ماں بہنوں کا
ایک یہ بھی میری میراث تھی کیا
الشام الشام الشام الشام

منہال میں کیسے زندہ ہوں
پل پل جیتا ہوں مرتا ہوں
ان آنکھوں نے جو کچھ دیکھا
ایک یہ بھی میری میراث تھی کیا
الشام الشام الشام الشام

آغاز ہے شام غریباں سے
خون ٹپکا چشم گریاں سے
بہنوں کا کھلا سر سامنے تھا
ایک یہ بھی میری میراث تھی کیا
الشام الشام الشام الشام

کیسے بھولوں اس منظر کو
نیزے پہ پھوپھی کی چادر کو
ساحل سے جو غازی نے دیکھا
ایک یہ بھی میری میراث تھی کیا
الشام الشام الشام الشام

ناموس پیعمبر بے چادر
اور سر پہ برستے ہوں پتھر
تر خون میں تھا سب کا چہرہ
ایک یہ بھی میری میراث تھی کیا

شام کے بازار میں اس خوشیاں مناتے ہوئے ہجوم میں یہ سھل ابن سعد ہے
اس نے نیزوں پر سروں کو دیکھا یہ کون آفتاب اور ماہتاب ہیں
سھل ٹکٹکی باندھ کے دیکھ رہا تھا ہر سر کو دیکھتا تھا
لیکن جب حسین کے سر کو دیکھا اب نگاہیں وہیں پہ رک گئيں
فاطمہ کے بیٹے کے سر سے نظریں نہيں اٹھتی تھی
اک مرتبہ تڑپا اور تڑپ کر کہنے لگا
یا رسول اللہ (صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم)۔
کاش میری آنکھیں اندھی ہوجاتی میں یہ منظر اپنی آنکھوں سے نہ دیکھتا
کیا دیکھتا ہے , کوئی نور والا چہرہ ہے
لیکن ہاتھوں میں ہتھکڑیاں
پیروں میں بیڑیاں
کمر میں لنگر
گردن میں طوق
اور وہ گردن کو جھکائے ہوئے چل رہا ہے
قریب آکے کہنے لگا
السلام و علیک ایہا الاسیر
اے قیدی میرا سلام
غریب نے مجمع میں پہلی مرتبہ کسی کو سلام کرتے دیکھا
نظریں اٹھائيں کہا نانا کے صحابی تجھ پر بھی میرا سلام ہو
پس نانا کا نام آيا سھل تڑپ کر رہ گیا
کہا , آپ کون ہیں
کہا , نہیں پہچانا
میں علی ہوں حسین کا بیٹا فاطمہ کا پوتا
ارے , میں اکیلا نہیں آیا ہوں میرے ساتھ فاطمہ کی بیٹیاں بھی آئی ہیں
بی بی کا سنا تڑپ کے دوڑا شہزادی کے اونٹ کے قریب پہونچ
سھل نے اپنی آنکھوں کو بند کیا گردن کو جھکائے ہوئے سلام کیا
کہا بی بی میں تیرے نانا کا صحابی ہوں اگر غلام کچھ کرسکتا ہے تو مجھے حکم دیں
آواز آئی اے سھل اگر مہربانی کرسکتا ہے تو ذرا ان نیزے والوں سے کہہ دے
کہ سروں کو لے کر آگے چلے جائيں
یہ زمانہ , ان سروں کو دیکھے
فاطمہ کی بیٹیوں کے کھلے سروں کی طرف زمانے کی نگاہیں نہ جائيں

نہ غم طوق و زنجیر کا تھا
غم پھوپیوں کا ہمشیر کا تھا
بازار کے غم نے مار دیا
ایک یہ بھی میراث تھی کیا
الشام الشام الشام الشام

اللہ میرے یہ حد ستم
پہروں تھے کھڑے دربار میں ہم
اور تخت پہ قاتل بیٹھا تھا
ایک یہ بھی میراث تھی کیا
الشام الشام الشام الشام

اک شام کا اک زندان کا غم
معصوم سی ننھی جان کا غم
جو ہو نہ سکی مر کر بھی رہا
ایک یہ بھی میری میراث تھی کیا
الشام الشام الشام الشام

ریحان و سرور شام چلو
اور شام کی وہ گلیاں دیکھو
بیمار جہاں کہتا ہی رہا
ایک یہ بھی میری میراث تھی کیا
الشام الشام الشام الشام

شائع کردہ

2 خیالات “Lyrics – Na ro Mola – Nadeem Sarwar 2009” پہ

اپنی راۓ دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s