Lyrics – Bus Ya Hussain(a.s) – Nadeem Sarwar 2008

صحفہ اول / اردو نوحے / سید ندیم رضا سرور / بس یاحسین

نو�ہ خواں سید ندیم رضا سرور
نوحہ خواں سید ندیم رضا سرور

شاعر : میر انیس، وحید الحسن ہاشمی، ڈاکٹر ہلال نقوی، ریحان اعظمی اور ندیم رضا سرور
نوحہ خواں : ندیم رضا سرور
سال : 2008
کمپوزر : زین عباس
اس نوحے کے تحریر کرنے میں اگر کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہوں تو اس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں


یہ نوحہ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے دئیے گئے لنک پر کلک کریں
بس یاحسین علیہ سلام.MP3
(Right Click / Save Target as or copy paste the link into new browser)


یاحسین’یاحسین’یاحسین’یاحسین
یاحسین’یاحسین’یاحسین’یاحسین
حسین
حسین یا حسین’حسین یا حسین
حسین یا حسین’یا حسین

اے حر کسے ملی یہ شہادت کی زیب و زین
بالی پہ تیرے آئیں ہیں خود مادر حسین
اس مرتبے کے بعد تو سب تجھ کو مل گيا
اے حر حسین مل گئے رب تجھ کو مل گيا

کچھ نہیں ملا اسے تو نہیں ملا جسے
تو جس کو مل گیا رب اس کو مل گيا
بس یاحسین بس یاحسین بس یاحسین بس یاحسین

یہ بس حسین کی عطا یہ بس حسین کا جگر
جو کہہ دیا وہ معتبر جو دے دیا تو سارا گھر
کرم حسین کا کرم کسی پہ ہوگيا اگر
ملے کسی کو بال و پر کسی کو مل گئے پسر
حر بنا دیا اسے جو ایک بار مل گيا
تو جس کو مل گیا رب اس کو مل گيا
بس یاحسین بس یاحسین بس یاحسین بس یاحسین

و تعز من تشاء و تزل من تشاء

آدم کی پوری نسل پہ احسان کون تھا
جس پر خدا کو ناز وہ انسان کون تھا
کنبے کے ساتھ دین پہ قربان کون تھا
نوک سناں پہ قاری قرآن کون تھا
اے کربلا بتا تیرا مہمان کون تھا
بس یاحسین بس یاحسین بس یاحسین بس یاحسین

بس حسین تھا
جسے یہ اختیار مل گيا
یہ اختیار کتنا وسیع و بلند ہے
سارا جہاں حسین کی مٹھی میں بند ہے
بدلا ہے کربلا میں تقضائے انقلاب
نیزے پہ اب جو سر ہے وہی سر بلند ہے
ایوان انبساط میں جنت نہ کر طلب
یہ تو غم حسین کے آنسو میں بند ہے
بس یاحسین بس یاحسین بس یاحسین بس یاحسین
تو جس کو مل گیا رب اس کو مل گيا

داستاں حسین کی سمجھ میں آگئی اگر
سمجھ میں آگئی اگر
تو حر کی رہ گزار پر کرے گا عشق کا سفر
کرے گا عشق کا سفر
تڑپ تڑپ اٹھے گا تو کہے گا رات رات بھر
حسین بس حسین ہے سناں پہ یا زمین پر
شاہ کربلا
شاہ کربلا سے جس کے دل کا تار مل گیا
تو جس کو مل گیا رب اس کو مل گيا

اک دوپہر میں جس نے بھرا گھر لٹا دیا
نازاں خدا ہے جس پہ وہ سجدہ ادا کیا
اپنے لہو سے خاک کو خاک شفا کیا
عاشور ایک روز کا صدیوں پہ چھا گیا
کرب و بلا کو عرش معلی بنا دیا
بس یاحسین بس یاحسین بس یاحسین بس یاحسین
سلام یاحسین
سلام یاحسین رب کا اعتبار مل گیا
تو جس کو مل گیا رب اس کو مل گيا

جب رن میں ذوالفقار علی ناگہاں چلی
بچھ بچھ گئی صفوں پہ صفیں وہ جہاں چلی
چمکی تو اس طرف ادھر آئی وہاں چلی
دینے کو داد عرش سے پیاسے کی ماں چلی
مدت کا تال میل تھا برسوں کا ساتھ تھا
جیسی وہ ذوالفقار تھی ویسا ہی ہاتھ تھا
کہا کہا گئی صفوں کو جدھر آئی ذوالفقار
گہہ چھپ گئی تو گاہ نظر آئی ذوالفقار
سر پر چمک کے تا بہ کمر آئی ذوالفقار
ذی کاٹ کر زمیں پر اتر آئی ذوالفقار
پھر تو یہ غل ہوا کہ دہائی حسین کی
اللہ کا غضب ہے لڑائی حسین کی
حسین یاحسین’حسین یاحسین

آئی ندائے غیب کہ شبیر مرحبا
اس کام کے لیے تھی یہ شمشیر مرحبا
یہ آبرو یہ جنگ یہ توقیر مرحبا
بس بس حسین بس میرے دلگیر مرحبا
وقت نماز عصر ہے تقدیر مرحبا
بس یاحسین بس یاحسین بس یاحسین بس یاحسین

لبیک کہہ کہ تیغ رکھی شہہ نے میان میں
پلٹی سپاہ آئی قیامت جہان میں
لو خنجروں میں تیغوں میں بھالو میں گھر گئے
تنہا حسین برچھیوں والوں میں گھر گئے
بس یاحسین بس یاحسین بس یاحسین بس یاحسین

ریحان و سرور حزیں سنو یہ ایسا راز ہے
حسین کہہ رہے تھے بس خدا پہ مجھ کو ناز ہے
نہ بھائی نہ پسر رہا نہ کوئی چارہ ساز ہے
اذان ہے حسین ہے خدائے بے نیاز ہے
نہ زین نہ زمین پر یہ آخری نماز ہے
بس یاحسین بس یاحسین بس یاحسین بس یاحسین

جس کے دل میں حسین رہتا ہے
فرش مجلس کا جو بچھاتا ہے
جو بھی نوحہ کہیں سناتا ہے
لے کے نام حسین روتا ہے
اس کو زہرا سلام کرتی ہیں

حسین یاحسین حسین یاحسین حسین یاحسین

شائع کردہ

8 خیالات “Lyrics – Bus Ya Hussain(a.s) – Nadeem Sarwar 2008” پہ

اپنی راۓ دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s