Lyrics – Kehti thi ye Maa’ – Nazim Hussain

صحفہ اول / اردو نوحے / ناظم حسین / کہتی تھی یہ ماں

نو�ہ خواں ناظم �سین
نوحہ خواں ناظم حسین


شاعر : محشر لکھنوی
نوحہ خواں : ناظم حسین
صاحب بیاض انجمن تبلیغ امامیہ
کمپوزر : زین عباس
اس نوحے کے تحریر کرنے میں اگر کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہوں تو اس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں


یہ نوحہ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے دئیے گئے لنک پر کلک کریں
کہتی تھی یہ ماں خوں بھری میت سے لپٹ کر.MP3
(Right Click / Save Target as or copy paste the link into new browser)


کہتی تھی یہ ماں خوں بھری میت سے لپٹ کر
ہاۓ ہاۓ علی اکبر
کہتی تھی یہ ماں خوں بھری میت سے لپٹ کر
ہاۓ ہاۓ علی اکبر

ارمان تھا پہناؤں گی پوشاک شہانی
افسوس کے راس آئی نہ تجھ کو یہ جوانی
کیسا تھا مقدر
ہاۓ ہاۓ علی اکبر

اتنا تو ذرا ٹہرو تمہیں دولہا بنا لوں
بس ایک جھلک سہرے کی صغرا کو دکھا لوں
بے چین تھی خواہر
ہاۓ ہاۓ علی اکبر

اٹھارہ برس پال کے پروان چڑھایا
وہ گيسوؤں والا ہے میرا خوں میں نہایا
یہ کیا ہوا دلبر
ہاۓ ہاۓ علی اکبر

ماں تیری جدائی میں بھلا کیسے جئيے گی
مر جائے گی صغرا جو خبر تیری سنے گی
اب کیا کروں جی کر
ہاۓ ہاۓ علی اکبر

ٹہرو کہ میں اٹھارویں منت تو بڑھا لوں
پھر لے کے بلائيں تجھے جینے کی دعا دوں
صدقے ہو یہ مادر
ہاۓ ہاۓ علی اکبر

پہلے تو اک آواز پہ اٹھ جاتے تھے بیٹا
اب اتنی صداؤں پہ بھی پہلو نہیں بدلا
کیا ہوگيا دلبر
ہاۓ ہاۓ علی اکبر

تم ہچکیاں لے لے کے جو دم توڑ رہے ہو
منہ ماں سے ہمیشہ کے لیے موڑ رہے ہو
کیوں روٹھے ہو دلبر
ہاۓ ہاۓ علی اکبر

آئيں جو ہمیں لوٹنے خیمے میں ستم گر
ماں دے گی صدا اے علی اکبر علی اکبر
چھن جائے گی چادر
ہاۓ ہاۓ علی اکبر

جب کوئی جواں لاش نظر آتی ہے محشر
اک یاد سوئے کرب و بلا جاتی ہے محشر
دل روتا ہے کہہ کر
ہاۓ ہاۓ علی اکبر
کہتی تھی یہ ماں خوں بھری میت سے لپٹ کر
ہاۓ ہاۓ علی اکبر

شائع کردہ

3 خیالات “Lyrics – Kehti thi ye Maa’ – Nazim Hussain” پہ

اپنی راۓ دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s