Lyrics – Rozey Pe Mustafa(s.aw.w) k Udassi Si Chayi Hai- Nadeem Sarwar 1987

صحفہ اول / اردو نوحے / سید ندیم رضا سرور / روضے پہ مصطفیۖ  کے اداسی سی چھائ ہے

نو�ہ خواں سید ندیم رضا سرور
نوحہ خواں سید ندیم رضا سرور


شاعر : ریحان اعظمی
نوحہ خواں : ندیم رضا سرور
سال : 1987
کمپوزر : زین عباس
اس نوحے کے تحریر کرنے میں اگر کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہوں تو اس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں

یہ نوحہ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے دئیے گئے لنک پر کلک کریں
روضے پہ مصطفیۖ کے اداسی سی چھائ ہے.MP3
(Right Click / Save Target as or copy paste the link into new browser)


روضے پہ مصطفیۖ  کے اداسی سی چھائی ہے
کنبے کو کھو کے زینب ناشاد آئی ہے
ارے رو کر پکاری نانا میں فریاد لائی ہوں
میں چھوڑ کر حسین کو جنگل میں آئی ہوں
روضے پہ مصطفیۖ کے اداسی سی چھائی ہے
کنبے کو کھو کے زینب ناشاد آئی ہے

ارے نانا ہمارے گھر کا سب اسباب لٹ گيا
نانا ہمارے سر پہ نا باقی رہی ردا
ارے نانا ہزار طرح جفا کی  لعینوں نے
خیموں میں ہائے آگ لگا دی لعینوں نے
روضے پہ مصطفیۖ کے اداسی سی چھائی ہے
کنبے کو کھو کے زینب ناشاد آئی ہے

ارے نانا عجیب سانحے ہم پر گزر گئے
رنج و الم نے گھیر لیا ہم جدھر گئے
ارے نانا خدا کے گھر میں نہ ہم کو اماں ملی
بھائی نے شہر چھوڑ کے جنگل کی راہ لی
روضے پہ مصطفیۖ کے اداسی سی چھائی ہے
کنبے کو کھو کے زینب ناشاد آئی ہے

ارے نانا شہید ہوگئے بھائی کے جانسار
ارے ایک ایک کرکے مرگئے اصحاب ذی وقار
نانا بلا کے بن میں قیامت کا رن پڑا
بھائی سے بھائی باپ سے بیٹا بچھڑ گیا
روضے پہ مصطفیۖ کے اداسی سی چھائی ہے
کنبے کو کھو کے زینب ناشاد آئی ہے

نانا تمہاری شکل کا فرزند بھی اک جو تھا
ارے کھا کر سناں جگر پہ وہ مہرو بھی چل بسا
ارے نانا شقی کے تیر سے اصغر ہوئے شہید
ایسا ہوا نہ ہوگا جہاں میں ستم کبھی
روضے پہ مصطفیۖ کے اداسی سی چھائی ہے
کنبے کو کھو کے زینب ناشاد آئی ہے

ارے نانا زمین کرب و بلا لال ہوگئی
قاسم کی لاش گھوڑوں سے پامال ہوگئی
ارے نانا کٹا کے شانوں کو عباس مرگئے
غربت میں بھائی جان کو بے آس کرگئے
روضے پہ مصطفیۖ کے اداسی سی چھائی ہے
کنبے کو کھو کے زینب ناشاد آئی ہے

ارے نانا ہوئیں اسیر تمہاری نواسیاں
ارے کون و مکاں میں چھا گئی غم کی اداسیاں
ارے نانا حرم حسین کے بازار میں گئے
ہم سر برہنہ کوفہ کے دربار میں گئے
روضے پہ مصطفیۖ کے اداسی سی چھائی ہے
کنبے کو کھو کے زینب ناشاد آئی ہے

ارے نانا تمہاری آل گئی لٹ کے شام میں
پہنچیں علی کی بیٹیاں دربار عام میں
ارے نانا حقیر سارے تھے تطہیر ہوگئے
ہم لوگ شہر شام میں تشہیر ہوگئے
روضے پہ مصطفیۖ کے اداسی سی چھائی ہے
کنبے کو کھو کے زینب ناشاد آئی ہے

ارے نانا اسیر بارہ تھے اور ایک تھی رسن
ارے باندھے گئے تھے مثل گناہ گار خستہ تن
ارے نانا ہم اپنے حال پہ روتے تھے زار زار
نانا ہمارے حال پہ ہستے تھے بد شعار
روضے پہ مصطفیۖ کے اداسی سی چھائی ہے
کنبے کو کھو کے زینب ناشاد آئی ہے

ارے ایک اک کا نام پوچھتا تھا بانی ستم
نانا بتاتا جاتا تھا شمر جفا شتم
یہ زینب حزيں یہ وہ کلثوم دلفگار
انگلی اٹھا اٹھا کے دکھاتا تھا نابکار
روضے پہ مصطفیۖ کے اداسی سی چھائی ہے
کنبے کو کھو کے زینب ناشاد آئی ہے

ارے نانا عجیب حال ہمارا تھا اس گھڑی
اک بی بی پیچھے دوسری بی بی کے چھپتی تھی
ارے اس وقت تھرتھری سی میرے تن میں پڑ گئی
صد ہیف ہے زمین میں زینب نہ گڑ گئی
روضے پہ مصطفیۖ کے اداسی سی چھائی ہے
کنبے کو کھو کے زینب ناشاد آئی ہے

ارے اتنے میں ایک شامی نے نانا غضب کیا
سیدانی کو کنیزی میں اس نے طلب کیا
ارے ہوتی تھی لاکھ ذلتیں ہم دیکھتے رہے
ہنس ہنس کے تازیانے ستم جھیلتے رہے
روضے پہ مصطفیۖ کے اداسی سی چھائی ہے
کنبے کو کھو کے زینب ناشاد آئی ہے

ارے نانا تباہ ہو کے ہم آئے ہیں شام سے
اک داغ نو سکینہ کا لائے ہیں شام سے
ارے اب تک ہیں نیلے رسی کہ شانوں کو دیکھ لو
نانا ہمارے تن پہ نشانوں کو دیکھ لو
روضے پہ مصطفیۖ کے اداسی سی چھائی ہے
کنبے کو کھو کے زینب ناشاد آئی ہے

زینب جو رو کے کرتی تھیں خبر نبی پہ بین
تھرا رہا تھا روضہ سلطان مشرقین
ارے سب ختم کرلی ساری یہ غم ناک داستاں
روئے ہیں اس الم میں زمیں اور آسماں
روضے پہ مصطفیۖ کے اداسی سی چھائی ہے
کنبے کو کھو کے زینب ناشاد آئی ہے

شائع کردہ

اپنی راۓ دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s