Lyrics – Ab Aye Ho Baba – Iz’zat Lucknovi

صحفہ اول / اردو نوحے / مشہور و مــتـفــرق / اب آۓ ہو بابا

نوحہ خواں : عزت لکھنوی
کمپوزر : زین عباس
اس نوحے کے تحریر کرنے میں اگر کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہوں تو اس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں


وہ کربلا وہ شام غریباں وہ تیرگی
وہ زینب حزیں وہ حفاظت خیام کی
آیا وہ ایک سوار قریب خیام شاہ
بیٹی علی کی غیض میں سوۓ فرس بڑھی
الٹی نقاب سر سے اپنے سوار نے
پیش نگاہ زینب مظلوم تھے علی
ہر چند صابرا تھی بہت بنت فاطمہ
بے ساختہ زبان پر یہ فریاد آگئ
زینب نے کہا باپ کے قدموں سے لپٹ کر
اب آے ہو بابا
جب لٹ گیا پردیس میں اماں کا بھرا گھر
ہاۓ
جب لٹ گیا پردیس میں اماں کا بھرا گھر
اب آۓ ہو بابا

بابا اگر آنا ہی تھا خالق کی رضا سے
اس وقت نہ آۓ
جب خاک پر دم توڑ رہا تھا میرا اکبر
ہاۓ
جب خاک پر دم توڑ رہا تھا میرا اکبر
اب آۓ ہو بابا

کٹ کٹ کے گرے نہر پہ جب بازو عباس
تو کوئ نہ تھا پاس
اس وقت صدا آپ کو دیتا تھا دلاور
ہاۓ
اس وقت صدا آپ کو دیتا تھا دلاور
اب آۓ ہو بابا

جب فرش زمین بال فلک لرزہ بجا تھا
اس وقت کہاں تھے
جب باپ کے چلو میں تھا خون علی اصغر
ہاۓ
جب باپ کے چلو میں تھا خون علی اصغر
اب آۓ ہو بابا

جب بھائ کا سر کٹتا تھا میں دیکھ رہی تھی
حضرت کو صدا دی
سر کھولے ہوۓ روتی تھی میں خیمے کے در پر
ہاۓ
سر کھولے ہوۓ روتی تھی میں خیمے کے در پر
اب آۓ ہو بابا

جب لوگ بچا لے گۓ لاشے شہداء کے
حق اپنا جتا کے
بس ایک تن شبیر کا پامالی کی زد پر
ہاۓ
بس ایک تن شبیر کا پامالی کی زد پر
اب آۓ ہو بابا

جب بالی سکینہ کے گوہر چھینے گۓ تھے
لگتے تھے طمانچے
حسرت سے مجھے دیکھتی تھی بانو مضطر
ہاۓ
حسرت سے مجھے دیکھتی تھی بانو مضطر
اب آۓ ہو بابا

جب شام کے قزاق ہمیں لوٹ رہے تھے
خیموں کو جلا کے
آپ آگۓ ہوتے تو نہ چھنتی میری چادر
ہاۓ
آپ آگۓ ہوتے تو نہ چھنتی میری چادر
اب آۓ ہو بابا

کیا آپ نے فردوس سے یہ دیکھا نہ ہوگا
کیا حشر بپا تھا
جب پشت سے بیمار کی کھینچا گيا بستر
ہاۓ
جب پشت سے بیمار کی کھینچا گيا بستر
اب آۓ ہو بابا

ایک رات کے مہمان ہیں پھر قید سلاسل
___
بازار میں ہم صبح کو جائيں گے کھلے سر
ہاۓ
بازار میں ہم صبح کو جائيں گے کھلے سر
اب آۓ ہو بابا

شاہد رخ حیدر پر بکھر جاتے تھے آنسو
جب کھولتے گیسو
چلاتی تھیں زینب میرے بابا میری چادر
ہا‌ۓ
چلاتی تھیں زینب میرے بابا میری چادر
اب آۓ ہو بابا

جب لٹ گيا پردیس ميں اماں کا بھرا گھر
ہاۓ
جب لٹ گيا پردیس ميں اماں کا بھرا گھر
اب آۓ ہو بابا
زینب نے کہا باپ کے قدموں سے لپٹ کر
ہاۓ
زینب نے کہا باپ کے قدموں سے لپٹ کر
اب آۓ ہو بابا

شائع کردہ

ایک خیال “Lyrics – Ab Aye Ho Baba – Iz’zat Lucknovi” پہ

  1. Salam,
    Kindly make corrections to the following minor things mentioned:

    5th Line الٹی نقاب چہرے سے اپنے سوار نے۔۔

    27th Line جب فرش زمین بال فلک لرزہ بجا تھے

    شاہد رخ حیدر پر بکھر جاتے تھے آنسو
    Last phrase جب کھول کے گیسو

    Many Thanks,
    Mir Areeb Ali

اپنی راۓ دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s