Lyrics – Ayohan’Naas Shumara – Nadeem Sarwar 1990

صحفہ اول / اردو نوحے / سید ندیم رضا سرور / ایہاالناس شمارہ بحق خون حسین(ع)۔

سید ندیم رضا سرور
سید ندیم رضا سرور

شاعر : ریحان اعظمی
نوحہ خواں : ندیم رضا سرور
سال : 1990
کمپوزر : زین عباس
اس نوحے کے تحریر کرنے میں اگر کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہوں تو اس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں۔

یہ نوحہ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے دئیے گئے لنک پر کلک کریں
ایہاالناس شمارہ بخق خون حسین.MP3
(Right Click / Save Target as or copy paste the link into new browser)


ایہا الناس شمارہ بحق خون حسین
رہ گئ گوش نمایاں پدری شیور و شین

ایہالناس تمہيں خون حسینی کی قسم
کم نہ ہو رنج و الم اور یہ شور ماتم

یہ وہ ماتم ہے جو زہرا و علی کرتے رہے
عصر عاشور یہ ماتم تو نبیۖ کرتے رہے
جب لٹا فاطمہ زہرا کا بھرا گھر رن میں
علقمہ روتی تھی اور کرب و بلا کرتی تھی بین

شد سکینہ جو گرفتار اجل در زنداں
نہ رفیق نہ انیس نہ دم غم خواراں
مرگئ شام کے زنداں میں سکینہ گھٹ کر
قتل کے وقت بھی آۓ نہيں بھیّـا اکبر
جس کی حسرت رہی دل میں ہی رہائ نہ ملی
خوں بھرا کرتا کفن بن گیا مرقد زنداں

وہ جو فرزند جواں خلد سناں ور سینا
پدر سوختہ جاں گریاں کند وا ویلا
مرگیا سامنے اٹھارہ برس کا بیٹا
ہاۓ اس عمر میں سجتا ہے سروں پر سہرا
نور آنکھوں کا گیا ٹھوکریں کھاتے ہيں حسین
در خیمہ پہ کھڑی روتی ہے بنت زہرا

تربت اصغر معصوم با میداں بینی
بر رہے اشک فشانند حسین ابن علی
اک ننھی سی لحد کھود کے میداں میں حسین
کہتے ہيں سونپا خدا کو تجھے اے نور عین
خواب سب آنکھوں کا پیوند ہوۓ ام رباب
خالی جھولا ہوا اور کوکھ تمہاری اجڑی

رفتہ شد چادر زینب سر بازار جفا
سینہ کوبی با کنند اہل عزا واویلا
سر بازار جفا بنت علی بے چادر
بھائ اٹھارہ تھے کوئ نہ رہا سر پہ مگر
رسیاں قید ستم رنج و الم کنبہ کا غم
تن بہ تقدیر ہے اس حال میں بنت زہرا

من نا خواہم دگر زندگی آخر لشکر
بعد عباس علمدار و علی اکبر
جی کے اب کیا کریں شبیر کہ لشکر نہ رہا
وہ علمدار وہ عباس دلاور نہ رہا
عصر وقت کا لیے جام شہادت آیا
رکھ دیا سجدہ معبود میں شبیر نے سر

چشمہ ما اشک فشاں در غم شبیر ہنود
من نا خواہم ما سواء ماتم شبیر ہنود
اشک آنکھوں سے نہيں تھمتے ہیں ریحان کبھی
یاد آجاتا ہے جب شام کا زندان کبھی
جب بھی قرطاس پہ میں نوحہ شبیر لکھوں
میری تحریر میں آتا ہے میرے قلب کا سوز

ایہاالناس تمہیں خون حسینی کی قسم
کم نہ ہو رنج و الم اور یہ شور ماتم

ایہا الناس شمارہ بحق خون حسین
رہ گئ گوش نمایاں پدری شیور و شین

شائع کردہ

اپنی راۓ دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s