Lyrics – Tooth Gayi Aas – Nadeem Sarwar 1989

صحفہ اول / اردو نوحے / سید ندیم رضا سرور / ٹوٹھ گئ آس

سید ندیم رضا سرور
سید ندیم رضا سرور

شاعر : انیس
نوحہ خواں : ندیم رضا سرور
سال : 1989
کمپوزر : زین عباس
اس نوحے کے تحریر کرنے میں اگر کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہوں تو اس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں۔

یہ نوحہ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے دئیے گئے لنک پر کلک کریں
ٹوٹھ گئ آس.MP3
(Right Click / Save Target as or copy paste the link into new browser)


ٹوٹھ گئ آس

ٹوٹھ گئ آس میری ٹوٹھ گئ آس
ٹوٹھ گئ آس میری ٹوٹھ گئ آس

ارے دیر ہوئ میرے چچا جاں کو سدھارے
اکبر و بابا ہیں گۓ نہر کنارے
ارے اماں میرا حلق جلا پیاس کے مارے
ارے ڈوبتے جاتے ہيں میرے دل کے سہارے

ٹوٹھ گئ آس میری ٹوٹھ گئ آس
ٹوٹھ گئ آس میری ٹوٹھ گئ آس

عباس بہت تجھ سے تھا زینب کو سہارا
ہاۓ اب کوئ نہیں عالم غربت میں ہمارا

ثانی زہرا یہ بکاہ کرتی ہيں روکر
تم سے تو ڈھارس تھی مجھے میرے برادر
بابا کا فرمان ہوا اب تو مقدر
ارے چھین کے لے جائيں گے اعداء میری چادر

ٹوٹھ گئ آس میری ٹوٹھ گئ آس
ٹوٹھ گئ آس میری ٹوٹھ گئ آس

تم شرم سے خیمے میں بھی آۓ نا برادر
ہاۓ شہہ لاۓ تھے جب لاشئہ قاسم کو اٹھا کر

پیٹھ کے سر کہتی ہیں فروہ میرے عباس
ارے قتل ہوا ابن حسن میں ہوئ بے آس
ارے آۓ نہ تم دینے کو پرسہ بھی میرے پاس
ارے ہوتا ہے اب تیری حیاء داری کا احساس

ٹوٹھ گئ آس میری ٹوٹھ گئ آس
ٹوٹھ گئ آس میری ٹوٹھ گئ آس

تو نے مجھے محرومی میں کیا شان عطا کی
ہاۓ کلثوم کو تڑپاۓ گی تا عمر جدائ

نظروں میں پھرتا ہے ابھی تک وہی منظر
عاشور کی شب تیری وفا نقش ہے دل پر
ارے کیا کہہ کے تجھے روۓ کرے نالا یہ خواہر
ارے اب تو ہی بتا دے مجھے اے میرے برادر

ٹوٹھ گئ آس میری ٹوٹھ گئ آس
ٹوٹھ گئ آس میری ٹوٹھ گئ آس

اصغر کی نا جب دیکھی گئ تشنہ دہانی
ارے میں نے دی تسّـلی اسے آنے کو ہے پانی

ارے ہاۓ میرے ننھے سے اصغر کے چچا جان
ارے بانو شبیر بہت تجھ پہ تھی نازان
ارے پیاسا ہی مرجاۓ گا اب اصغر نادان
ارے جل کے اجڑ جانے کا بھی ہوگيا سامان

ٹوٹھ گئ آس میری ٹوٹھ گئ آس
ٹوٹھ گئ آس میری ٹوٹھ گئ آس

بارات بھتیجے کی چچا جائيں گے لے کر
ارے اس آس میں اٹھارہ برس پالا تھا اکبر

ہے چاک گریبان فغاں کرتی ہیں لیلی
اکبر میرا اب بن نا سکے گا کبھی دولہا
ٹکڑے ہوا سب حسرت و ارماں کا کلیجہ
ارے کیا دیکھتے ہی دیکھتے یہ ہوگيا بھیّـا

ٹوٹھ گئ آس میری ٹوٹھ گئ آس
ٹوٹھ گئ آس میری ٹوٹھ گئ آس

شہہ کہتے تھے باقی نہ رہا علمدار نہ لشکر
ارے زینب یہ بڑھا دو علم دلبر حیدر

تاریخ نے مقتل میں انیس جس طرح لکھا
وہ سینہ زنی اور قیامت کا تھا گریہ
سر پیٹتے تھے زیر علم دلبر زہرا
ارے سوکھے ہوۓ ہونٹوں پہ تھا پردرد یہ نوحہ

ٹوٹھ گئ آس میری ٹوٹھ گئ آس
ٹوٹھ گئ آس میری ٹوٹھ گئ آس

شائع کردہ

اپنی راۓ دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s