Lyrics – Salam-e-Akhir – Nasir Jehan

صحفہ اول / اردو نوحے / مشہور و مــتـفــرق / سلام آخر

ناصر جہاں
ناصر جہاں


شاعر : سید آل رضا
نوحہ خواں : ناصر جہاں
سال : 1952
کمپوزر : زین عباس
اس نوحے کے تحریر کرنے میں اگر کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہو تو اس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں

سلام آخر کے حوالے سے خصوصی معلومات
سلام آخر غالبا 1926ء میں لکھا گیا تھا، 1952 میں ریڈیو پاکستان میں عاشور کی رات “شام غریباں” میں جناب ناصر جہاں کو کلام پڑھنے کے لیے تقریبا پانچ منٹ دستیاب تھے جس کے بعد باقاعدہ مجلس شام غریباں ریڈیو پاکستان سے نشر کی جاتی تھی، لیکن اس روز کسی وجوہ کی بنا پر ناصر جہاں کو اضافی پندرہ منٹ دیئے گئے، ناصر جہاں صاحب کے پاس یہ کلام “سلام آخر” تحریری طور پر موجود تھا لہذا انہوں نے یہ سلام پیش کیا۔ یہ پرسوز کلام پاکستان ٹیلی وژن پر “مجلس شام غریباں” کے بعد ابھی بھی نشر کیا جاتا ہے۔


سلام یتیموں پہ سوگواروں کا
غریب دیتے ہیں پرسہ تمہارے پیاروں کا

سلام ان پر جنہیں شرم کھاۓ جاتی ہے
کھلے سروں پہ اسیری کی خاک آتی ہے

سلام ان پر جو زحمت کش سلاسل ہے
مصیبتوں میں امامت کی پہلی منزل ہے

سلام بھیجتے ہیں اپنی شہزادی پر
کہ جس کو سونپ گۓ مرتے وقت گھر سرور

مسافرت نے جسے بے بسی یہ دکھلائ
نثار کردیے بچے نہ بچ سکا بھائ

اسیر ہو کے جسے شامیوں کے نرغے میں
حسینیت ہے سکھانا علی کے لہجے میں

سـکـینـہ بی بی تمہارے غلام حاضر ہیں
بجھے جو پیاس تو اشکوں کے جام حاضر ہیں

یہ سن یہ حشر یہ صدمے نۓ نۓ بی بی
کہاں پہ بیٹھی ہو خیمے تو جل گۓ بی بی

پہاڑ رات بڑی دیر ہے سویرے میں
کہاں ہو شام غریباں کے گھپ اندھیرے میں

زمین ہے گرم یتیمی کی سختیاں بی بی
وہ سینہ کہ جس پہ سوتی تھی اب کہاں بی بی

جناب مادر بیشیر کو بھی سب کا سلام
عجیب وقت ہے کیا دیں تسّـلیوں کا پیام

ابھی کلیجے میں آگ سی لگی ہوگی
ابھی تو گود کی گرمی نہ کم ہوئ ہوگی

نہیں اندھیرے میں کچھ سوجھتا کہاں ڈھونڈیں
تمہارا چاند کہاں چھپ گيا کہاں ڈھونڈیں

نہ اس طرح کوئ کھیتی ہری بھری اجڑی
تمہاری مانگ بھی اجڑی ہے کوکھ بھی اجڑی

نہیں لعینوں میں انساں کوئ خداحافظ
درندے اور یہ بے وارثی خداحافظ

شہید کے حق اے درود و سلام اے پیغمبر
سلام سید لولاک کے لٹے گھر پر

سلام محسن اسلام اسد اللہ کو
سلام تم پر شہیدوں کے بے کفن لاشوں

سلام تم پر رسول و بتول کے پیاروں
سلام مہر شہادت کے گرد سیاروں

بچے تو اگلے برس ہم ہیں اور یہ غم پھر ہے
جو چلے بسے تو یہ اپنا سلام آخر ہے

آن لائــن فـــرش عـــزا
http://www.xainabbas.wordpress.com

شائع کردہ

6 خیالات “Lyrics – Salam-e-Akhir – Nasir Jehan” پہ

  1. سلام محسن اسلام اسد اللہ کو
    سلام تم پر شہیدوں کے بے کفن لاشوں

    But when it is read out the first stanza is read as “Khasta tan Lashon” Please clarify.

اپنی راۓ دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s