Wording – Amir Bhi Hai Ghareeb Bhi Hai – Mir Hassan Mir 2009

صحفہ اول / اردو نوحے / میر حسن میر / امیر بھی ہے غریب بھی ہے

میر حسن میر
میر حسن میر

شاعر : گوہر ، تکـلم
نوحہ خواں : میر حسن میر
سال : 2009
کمپوزر : زین عباس
اس نوحے کے تحریر کرنے میں اگر کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہوں تو اس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں

یہ نوحہ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے دئیے گئے لنک پر کلک کریں
حسین امیر بھی ہے غریب بھی ہے.MP3
(Right Click / Save Target as or copy paste the link into new browser)


امیر حسین غریب حسین

امیر بھی ہے غریب بھی ہے
امیر بھی ہے غریب بھی ہے

حسین محبوب کبریا ہے
حسین غربت کی انتہا ہے

حسین مقصود کربلا ہے
حسین مظلوم کربلا ہے

امیر ایسا کفن کی سوغات جس کے روضہ سے بٹ رہی ہے
غریب ایسا کہ خود کو اب تک کفن میسر نہیں ہوا ہے

امیر ایسا کہ جس کا جھولا نبیۖ جھلائيں علی جھلائيں
غریب ایسا کہ جس کے بچے کا جھولا بن میں جل گيا ہے

امیر ایسا کہ رسم پردہ دری چلی ہے اسی کے گھر سے
غریب ایسا کہ شام و کوفہ میں اس کی ہمشیر بے ردا ہے

امیر ایسا سکینہ جیسی خدا نے بیٹی جسے عطا کی
غریب ایسا اسی کے منہ پر کوئ طمانچے لگا رہا ہے

امیر ایسا کہ جس کے بابا کی ملکیت میں ہے حوض کوثر
غریب ایسا کہ تین دن سے اسی کو پانی نہیں ملا ہے

امیر ایسا کہ جس کا بیٹا شبیہ سردار انبیاء ہے
غریب ایسا کہ وہ ہی سینے پر برچھی کھاۓ تڑپ رہا ہے

امیر ایسا خدا کا دیں جس کے دم سے ہے آج تک سلامت
غریب ایسا کہ رن میں جس کا بدن سلامت نہیں رہا ہے

امیر ایسا کہ پتھروں کو بنا دے گوہر وہی تکلم
غریب ایسا کہ پتھروں میں اسی کا لاشہ چھپا ہوا ہے

امیر بھی ہے غریب بھی ہے
امیر بھی ہے غریب بھی ہے

امیر حسین غریب حسین

http://www.xainabbas.wordpress.com

شائع کردہ

اپنی راۓ دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s