Wording – Main Rahun Ya Na Rahun – Nadeem Sarwar 2009

صحفہ اول / اردو نوحے / سید ندیم رضا سرور / میں رہوں یا نہ رہوں

سید ندیم رضا سرور
سید ندیم رضا سرور

شاعر : ریحان ا‏عظمی
نوحہ خواں : ندیم رضا سرور
سال : 2009
کمپوزر : زین عباس
اس نوحے کے تحریر کرنے میں اگر کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہوں تو اس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں۔

یہ نوحہ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے دئیے گئے لنک پر کلک کریں
میں رہوں یا نہ رہوں میرا اسلام رہے گا.MP3
(Right Click / Save Target as or copy paste the link into new browser)


میں رہوں یا نہ رہوں میرا اسلام رہے گا
اے فوج اشقیاء میرا اسلام رہے گا
قرآن رہے گا میرا پیغام رہے گا

جب ظہر تک حسین بہتـّـر کو رو چکے
اکبر کو روچکے علی اصغر کو روچکے
ایک دوپہر میں باوفا لشکر کو روچکے
پھر فوج بد نصب سے مخاطب ہوۓ امام
میں رہوں یا نہ رہوں میرا اسلام رہے گا

فرماتے تھے حسین میں بے قصور ہوں
روشن ہے تم پہ چشمہ پیعمبرۖ کا نور ہوں
فاقوں سے میں نڈھال ہوں زخموں سے چور ہوں
زخموں پہ زخم پیاس کی شدت میں کھاؤں گا
لیکن میں نانا جان سے وعدہ نبھاؤں گا
میں رہوں یا نہ رہوں میرا اسلام رہے گا

دریا کو تم نے چھین لیا میں نے کچھ کہا
پانی دکھا دکھا کے پیا میں نے کچھ کہا
داغ اکبر جواں کا دیا میں نے کچھ کہا
حق پر ہوں میرے حق میں سناں بول رہی ہے
سن لو وہ اذاں میری زباں بول رہی ہے
میں رہوں یا نہ رہوں میرا اسلام رہے گا

مقصد ہے لا الہ کی بقا اور کچھ نہیں
وعدہ ہو زیر تیغ وفا اور کچھ نہیں
اس کے سواء لبوں پہ دعا اور کچھ نہیں
راضی ہو مجھ سے میرا خدا چاہتا ہوں میں
میں ہوں حسین سب کا بھلا چاہتا ہوں میں
میں رہوں یا نہ رہوں میرا اسلام رہے گا

مقصد نہیں ہے جنگ ہمارا خدا گواہ
خط بھیج کے ہے تم نے بلایا خدا گواہ
بے جرم تم نے مجھ کو ستایا خدا گواہ
خنجر تلے بلند میں تکبیر کروں گا
اپنے لہو سے خاک پہ تحریر کروں گا
میں رہوں یا نہ رہوں میرا اسلام رہے گا

میں اور کروں یزید کی بیعت نہیں نہیں
بدلوں اجل کے ڈر سے شریعت نہیں نہیں
جینے کے بدلے چھوڑوں شہادت نہیں نہیں
تم کون ہو نقاب رخوں سے ہٹاؤں گا
میں کون ہوں یہ نوک سناں پہ بتاؤں گا
میں رہوں یا نہ رہوں میرا اسلام رہے گا

آکر در خیام پہ زینب کو دی صدا
آ اے میری غریب بہن آ قریب آ
لے آخری سلام حسین غریب کا
مقصد ہے میرا کیا یہ سبق تجھ کو یاد ہے
میری شریک کار مجھے اعتماد ہے
میں رہوں یا نہ رہوں میرا اسلام رہے گا

زینب تـڑپ کے بولی کہ بھیا سمجھ گئ
بھیا تیرے اشارے کو بہنا سمجھ گئ
میں کیا تیری غریب سکینہ سمجھ گئ
خطبوں سے میں ہلاؤں گی قصر یزید کو
مرنے نہ دوں گی اب میں کسی بھی شہید کو
میں رہوں یا نہ رہوں میرا اسلام رہے گا

ھل من ناصر ینصرنا

اٹھا وہ بار ظلم کڑکتی ہیں بجلیاں
زیں سے گرے حسین اٹھی سرخ آندھیاں
ناگہاں سر حسین کا آیا سر سناں
قرآں سنا کے سید مظلوم نے کہا
لو نانا جان وعدہ وفا میں نے کردیا
میں رہوں یا نہ رہوں میرا اسلام رہے گا

اے سرور و ریحان یہ لمحہ عجیب ہے
نیزے پہ لب کشاء یہ حسین غریب ہے
زینب تمہاری شام غریباں قریب ہے
سب کچھ تیرے حوالے ہے اب تم سنبھالنا
اپنا خیال رکھنا سکینہ کو پالنا

http://www.xainabbas.wordpress.com

شائع کردہ

اپنی راۓ دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s