Wording – Kul’lo Yom’en A’shura Kul’lo Arz’en Karbala – Nadeem Sarwar 1996

صحفہ اول / اردو نوحے / سید ندیم رضا سرور / كل يوم عاشوراء كل ارض كربلاء

سید ندیم رضا سرور
سید ندیم رضا سرور

شاعر : ریحان اعظمی
نوحہ خواں : ندیم رضا سرور
سال : 1996
کمپوزر : زین عباس
اس نوحے کے تحریر کرنے میں اگر کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہوں تو اس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں۔

یہ نوحہ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے دئیے گئے لنک پر کلک کریں
كل يوم عاشوراء كل ارض كربلاء.MP3
(Right Click / Save Target as or copy paste the link into new browser)


یاحسین یاحسین یاحسین یاحسین

کـل یـــــوم عــــاشـوراء کـل ارض کـــربـــلاء
يــــــا أبــــــــو الأحــــــــرار یــــــاحـــــســیــن

تیری قربانی کا صدقہ اے شہید کربلا
ہے زمین و آسماں کو یہ شرف تب سے ملا
بر سر نوک سناں دیکھا تو قدرت نے کہا
كل يوم عاشوراء كل ارض كربلاء
مثل عاشورہ ہے ہر دن ہر زمیں ہے کربلا

جو دن ہے روز عاشورہ اور جو زمیں ہے کربلا
دیکھیے تقدیر اس دن کی ذرا پڑھ کے کساء
حضرت جبرئیل سے جس دم محمدۖ نے کہا
يُؤْلِمُنى ما يُؤْلِمُهُمْ وَيَحْزُنُنى ما يَحْزُنُهُمْ
جس نے ان کو دکھ دیا ہے مجھ کو رنجیدہ کیا

سبھی نبیۖ کے کلمہ گو تھے سبھی نمازیں پڑھتے تھے
کرب و بلا میں سبط نبیۖ کے خون کے لیکن پیاسے تھے
حفظ کیا قرآن مگر یہ قول نبیۖ نہ یاد رہا
حَرْبٌ لِمَنْ حارَبَهُمْ وَسِلْمٌ لِمَنْ سالَمَهُمْ
ان سے رفاقت مجھ سے رفاقت ان کا عدو دشمن ہے میرا

سب کو خبر ہے سب کو پتا ہے خلد بریں کے مالک ہیں
ساقی کوثر قاسم جنت عرش و زمیں کے مالک ہیں
شمر ستمگر سوچ ذرا تو کاٹ رہا ہے کس کا گلا
عَدُوُّ لِمَنْ عاداهُمْ وَمُحِبُّ لِمَنْ اَحَبَّهُمْ
ان کا عدو ہے میرا دشمن دوست ہے ان کا دوست میرا

لَحْمُهُ کا لَحْمى، دَمُهُ کا دَمى نفسُ کا نفسي جن کو کہا
چار نفس حسنین و زہرا، مولا علی تھے زیر کساء
صد افسوس بھلایا تم نے قول رسول اکرمۖ کا
روح پیعمبرۖ ، روح زہرا کیوں نہ کریں پھر واویلا

جس کے لیے تَطْهير کی چادر آیت بن کر آئ تھی
دشت بلا میں ننگ سر وہ زینب زہرا جائ تھی
بالوں سے پردہ کرتی تھی ، کرتی تھی یہ آہ و بکاہ
قتل کیا میرے بھائ کو چھین لی میرے سر سے ردا

بعد نبیۖ کے ظلم وہ ڈھاۓ اہل ستم نے زہرا پر
قتل کیا جلتی ریتی پر کن کے نبیۖ کا لخت جگر
ایک طرف تھا پیاس کا صحرا ایک طرف بہتا دریا
لاش سرور اہل جفا نے گھوڑوں سے پامال کیا

صبح دھم شبیر نے جب اکبر سے کہا اذان کہو
وقت شہادت آنپہنچا ہے شکر خدا ہر آن کرو
ہم ناطق قرآں ہیں بیٹا قرآن سنو قرآن پڑھو
تیری اذاں آغاز ہے بیٹا اور انجام میرا سجدہ

شام غریباں جلتے خیمے دور تلک ھو کا عالم
آگ کے شعلوں کے اندر برپا تھا بھرے گھر کا ماتم
ریحان لبوں پہ زینب کے بس ایک صدا تھی ایک دعا
کچھ بھی نہيں درکار ہمیں ہے ہم کو ملے بس تیری رضا

يــــــا أبــــــــو الأحــــــــرار یــــــاحـــــســیــن
کـل یـــــوم عــــاشـوراء کـل ارض کـــربـــلاء

http://www.xainabbas.wordpress.com

شائع کردہ

اپنی راۓ دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s