Wording – Nok-e-Neza Pe Tehrta Nahi Abbas(a.s) Ka Sar – Irfan Haider 2005

صحفہ اول / اردو نوحے / سید عرفان حیدر / نوک نیزہ پہ ٹہرتا نہیں عباس(ع) کا سر

سید عرفان حیدر
سید عرفان حیدر


شاعر : مظہر عابدی
نوحہ خواں : سید عرفان حیدر
سال : —-
کمپوزر : زین عباس
اس نوحے کے تحریر کرنے میں اگر کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہوں تو اس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں


جب شام کے بازار میں سیدانیاں آئيں
ارے چادر کی جگہ خاک سفر بالوں پہ لائيں
ناگہاں جب غازی کی نظر کلثوم تک آئ
ارے سر خاک پر عباس نے نیزے سے گرایا
ڈر ہے کلثوم کے چہرے پہ نہ پڑ جاۓ نظر
نوک نیزہ پہ ٹہرتا نہیں عباس کا سر

ایک غیور وفادار پہ اب اور ستم کیا ہوگا
جس کی چادر کا محافظ تھا وہی آج ہوئ بے پردہ
شام والوں اسی احساس سے دوران سفر
نوک نیزہ پہ ٹہرتا نہیں عباس کا سر

ڈر ہے کلثوم کے چہرے پہ نہ پڑ جاۓ نظر
نوک نیزہ پہ ٹہرتا نہیں عباس کا سر

گرگئ راہ میں ناقہ سے سکینہ تو یہ زینب نے کہا
ایک چچا اور بھتیجی کی محبت تو ذرا دیکھ خدا
پشت ناقہ پہ سنبھلتی نہیں شہہ کی دختر
نوک نیزہ پہ ٹہرتا نہیں عباس کا سر

ڈر ہے کلثوم کے چہرے پہ نہ پڑ جاۓ نظر
نوک نیزہ پہ ٹہرتا نہیں عباس کا سر

شام کے لوگ تماشائ بنے اور تماشا سادات
بے وطن اور کھلے سر ہیں سر راہ کریں کیا سادات
خون آنکھوں سے بہاتے ہیں شہہ جن و بشر
نوک نیزہ پہ ٹہرتا نہیں عباس کا سر

ڈر ہے کلثوم کے چہرے پہ نہ پڑ جاۓ نظر
نوک نیزہ پہ ٹہرتا نہیں عباس کا سر

آندھیوں خاک اڑاؤں کے بنے اس سے حرم کا پردہ
گونجی جب شام کی غم ناک فضاؤں میں یہ زنیب کی صدا
آسماں رونے لگا روئ زمیں یہ کہہ کر
نوک نیزہ پہ ٹہرتا نہیں عباس کا سر

ڈر ہے کلثوم کے چہرے پہ نہ پڑ جاۓ نظر
نوک نیزہ پہ ٹہرتا نہیں عباس کا سر

چشم سجاد سے بہنے لگے اس وقت لہو کے دھارے
جب کہ معصوم سکینہ کو ستمگر نے طمانچے مارے
لاشہ ساحل پہ تڑپتا ہے اور ادھر
نوک نیزہ پہ ٹہرتا نہیں عباس کا سر

ڈر ہے کلثوم کے چہرے پہ نہ پڑ جاۓ نظر
نوک نیزہ پہ ٹہرتا نہیں عباس کا سر

رونے والوں سر بازار کھلے سر تھی علی کی بیٹی
گر گيا فرق وفادار جو نیزے سے تو حیراں تھے شقی
پوچھا عابد سے ستمگر نے بتاؤ کیوں کر
نوک نیزہ پہ ٹہرتا نہیں عباس کا سر

ڈر ہے کلثوم کے چہرے پہ نہ پڑ جاۓ نظر
نوک نیزہ پہ ٹہرتا نہیں عباس کا سر

ساتھ سادات کے شہزادی کونین سفر کرتی رہی
نوحہ کرتے ہیں نبیۖ خاک اڑاتے ہیں حسن اور علی
ہاۓ کیا وقت ہے روتے ہیں سناں پر سرور
نوک نیزہ پہ ٹہرتا نہیں عباس کا سر

ڈر ہے کلثوم کے چہرے پہ نہ پڑ جاۓ نظر
نوک نیزہ پہ ٹہرتا نہیں عباس کا سر

کبھی لیلی کبھی فروہ کبھی کلثوم کہيں واویلا
چہرہ بالوں سے چھپاتے ہوۓ زینب نے یہی رو کے کہا
اماں فضہ ذرا دیکھو تو یہ غم کا منظر
نوک نیزہ پہ ٹہرتا نہیں عباس کا سر

ڈر ہے کلثوم کے چہرے پہ نہ پڑ جاۓ نظر
نوک نیزہ پہ ٹہرتا نہیں عباس کا سر

نوحہ لکھتے ہوۓ عرفان یہ مظہر نے کہا تھا رو کر
کون قرطاس پہ لا سکتا ہے اولاد پیعمبرۖ کا سفر
رو دیئے قلب و جگر ایک ہی مصرعہ لکھ کر
نوک نیزہ پہ ٹہرتا نہیں عباس کا سر

ڈر ہے کلثوم کے چہرے پہ نہ پڑ جاۓ نظر
نوک نیزہ پہ ٹہرتا نہیں عباس کا سر

آن لائــن فـــرش عـــزا
http://www.xainabbas.wordpress.com

شائع کردہ

اپنی راۓ دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s