Wording – Aik Boond Bhi – Mesum Abbas 2008

صحفہ اول / اردو نوحے / مـيثم عـباس / ایک بوند بھی

نوحے خواں مـیـثم عـباس
نوحہ خواں مـیـثم عـباس


شاعر : جواد
نوحہ خواں : مـیثم عـباس
سال : 2008
کمپوزر : زین عباس
اس نوحے کے تحریر کرنے میں اگر کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہوں تو اس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں


ماں نے دی صدا اے میرے بیٹا

ایک بوند بھی پانی نہ ملا خشک تھا گلا تر نہ ہوسکا
تڑپ اٹھی ماں ہاۓ میرے لعل تیر سے چھدا ننھا سا گلا

بیٹا تیرے بعد جی نہ سکوں گی پانی تیرے بعد پی نہ سکوں گی
اجڑا ہے اصغر میرا مقدر تو ہے بے کفن میں ہوں بے ردا

جھولا جھلاتی لوری سناتی لعل میں تیرے ناز اٹھاتی
جل میں لٹ گئ میری کمائ خون کا دریا پل میں بہہ گیا

تیر کھا کے تو مسکرا دیا روتی رہ گئ فوج اشقیاء
نہر علقمہ ارض کربلا دیکھتی رہی تیرا حوصلہ

روتی ہے تجھ کو ہاۓ سکینہ اب کہاں تجھ کو پاۓ سکینہ
جھولا بھی خالی جھولی بھی خالی دکھیا جھلاۓ کس کا جھولنا

کیسے یہ منظر بھول پاؤں گی اشک لحد میں بھی بہاؤں گی
لعل تمہاری پھول سی گردن کر گیا زخمی تیر حرملہ

چل دیئے تم بھی ماں کو چھوڑ کر کیسے کروں گی شام کا سفر
مانگ بھی اجڑی کوکھ بھی اجڑی کوئ نہیں ہے میرا آسرا

دھوپ میں جوّاد عمر بیتائ پل بھی نہ میثم ساۓ میں آئ
تپتی زمیں پر تـڑپا تھا اصغر ماں کو وہ منظر یاد رہ گيا

ایک بوند بھی پانی نہ ملا خشک تھا گلا تر نہ ہوسکا

ماں نے دی صدا اے میرے بیٹا

آن لائــن فـــرش عـــزا
http://www.xainabbas.wordpress.com

شائع کردہ

اپنی راۓ دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s