Wording – Maa (Mother) – Shadman Raza 2008

صحفہ اول / اردو نوحے / شادمان رضا / مـــا ں

شادمان رضا
شادمان رضا


شاعر : —-
مـنـقـبت خواں : شادمان رضا
سال : 2008
کمپوزر : زین عباس
اس مـنـقـبت کے تحریر کرنے میں اگر کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہوں تو اس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں


ماں

موت کی آغوش میں جب تھک کے سو جاتی ہے ماں
تب کہیں جا کر رضا تھوڑا سکوں پانی ہے ماں

فکر میں بچوں کی کچھ اس طرح گھل جاتی ہے ماں
نوجواں ہوتے ہوۓ بوڑھی نظر آتی ہے ماں

اپنے پہلو میں لٹا کر روز طوطے کی طرح
ایک بارہ پانچ چودہ ہم کو رٹواتی ہے ماں

گھر سے جب پردیس جاتا ہے کوئ نور نظر
ہاتھ میں قرآن لے کر در پہ آجاتی ہے ماں

چاہے ہم خوشیوں میں ماں کو بھول جائيں دوستوں
جب مصیبت سر پہ پڑتی ہے تو یاد آتی ہے ماں

یاد آتا ہے شب عاشور کا کڑیل جواں
جب کبھی الجھی ہوئ زلفوں کو سلجھاتی ہے ماں

جب تلک یہ ہاتھ ہيں ہمشیر بے پردہ نہ ہو
اک بہادر باوفا بیٹے سے فرماتی ہے ماں

پیار کہتے ہیں کسے اور مامتا کیا چیز ہے
کوئ ان بچوں سے پوچھے جن کی مرجاتی ہے ماں

اپنے غم کو بھول کر روتے ہیں جو شبیر کو
ان کے اشکوں کے لیے جنت سے آجاتی ہے ماں

شکریہ ہو ہی نہیں سکتا کبھی ماں کا ادا
مرتے مرتے بھی دعا جینے کی دے جاتی ہے ماں

آن لائــن فـــرش عـــزا
http://www.xainabbas.wordpress.com

شائع کردہ

اپنی راۓ دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s