Wording – Haye Sham Ka Bazaar – Nadeem Sarwar 1995

صحفہ اول / اردو نوحے / سید ندیم رضا سرور / ہاۓ شام کا بازار

سید ندیم رضا سرور
سید ندیم رضا سرور

شاعر : ریحان اعظمی
نوحہ خواں : ندیم رضا سرور
سال : 1995
کمپوزر : زین عباس
اس نوحے کے تحریر کرنے میں اگر کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہوں تو اس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں۔

یہ نوحہ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے دئیے گئے لنک پر کلک کریں
ہاۓ شام کا بازار.MP3
(Right Click / Save Target as or copy paste the link into new browser)


ہاۓ شام کا بازار
سجاد سے رونے کا سبب پوچھ رہا ہے
جو شام میں گزری ہے وہ سب پوچھ رہا ہے

وہ لاکھ تماشائ بے پردہ پھوپھی بہنیں
کیسے نہ لہو روئيں بیمار کی پھر آنکھیں
اس غم کی اذیت نے اسے مار دیا ہے

کس طرح قرار آۓ بیمار کو اے لوگوں
سر نیزوں پہ پیاروں کے آتے ہیں نظر جس کو
بے جرم مسافر کی یہ کیسی سزا ہے

آنکھوں سے ہے خوں جاری غمخوار ہے بیمار بھی
زنجیر ہے پیروں میں اور طوق بھی ہے بھاری
جلتی ہے زمیں ساری اور گرم ہوا ہے

تاخیر نہیں مانگی زنجیر نہیں بدلی
ساۓ میں نہیں بیٹھا پوشاک نہیں بدلی
ماں بہنوں کی خاطر وہ ردا مانگ رہا ہے

زنداں کے مصائب بھی ہر وقت رلاتے ہیں
اشکوں کو مگر اپنے زینب سے چھپاتے ہیں
مرجاۓ نہ زینب یہ کہیں سوچ رہا ہے

زنداں سے رہا ہو کے بھی زنداں میں ہیں سجاد
اک ننھی سی تربت جو وہاں کرتی ہے فریاد
مر کے بھی رہوں قید یہ کیا میری خطا ہے

یہ زخم بھی سجاد کو جینے نہیں دیتا
زخموں سے سکینہ کے جو چپکا رہا کرتہ
وہ خوں بھرا کرتہ ہی کفن اس کا بنا ہے

بازار میں دربار میں زنداں میں روۓ
چالیس برس موت کے ارمان میں روۓ
ریحان میرا مولا تڑپتا ہی رہا ہے

سجاد سے رونے کا سبب پوچھ رہا ہے
جو شام میں گزری ہے وہ سب پوچھ رہا ہے
ہاۓ شام کا بازار

آن لائــن فـــرش عـــزا
http://www.xainabbas.wordpress.com

شائع کردہ

اپنی راۓ دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s