Wording – Bazar-e-Shaam Agaya – Shahid Baltistani 2009

صفحہ اول / اردو نوحے / شاہد بلتستانی / بازار شام آگیا

شاہد بلتستانی
شاہد بلتستانی

شاعر : یاور عباس
نوحہ خواں : شاہد بلتستانی
البم : ورد درویش
سال : 2009
کمپوزر : زين عباس

اس نوحہ کے تحریر کرنے میں اگر کوئ غلطی سرزد ہوگئ ہو تو میں اس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔

آڈیو
آڈیو ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کریں۔
بازار شام آگیا.Mp3

ويڈیو


بازار شام آگیا
اکبر میرے جواں
کس کو بلاۓ ماں
بازار شام آگیا

زینب کی لو خبر عابد ہیں ناتواں

دشت بلا کو چھوڑ کر خاک شفا کو اوڑھ کر
اے فخر کبریا سنو کہتی ہے ہاتھ جوڑ کر
کیسے چلے گی اے میرے نوجواں
بازار شام آگیا

قسمت کی پاسباں ہے وہ خیرالنساء کی جاں ہے وہ
غربت کی انتہاء ہوئ غیروں کے درمیاں ہے وہ
شہزادی جناح سہتی ہیں سختیاں
بازار شام آگیا

قاتل تیرا میرے پسر سجاد کا ہے ہمسفر
کم تو نہیں ہے یہ ستم سہتا رہا ہے وہ مگر
کیسے سہے بھلا بیمار سارباں
بازار شام آگیا

میں نے سنی ہے یہ صدا کہتے ہیں شام میں سبھی
بدلہ علی کا لیں گے ہم بنت علی سے آج ہی
پتھر سے ہے بھری لوگوں کی جھولیاں
بازار شام آگیا

نامحرموں کی بھیڑ میں اٹھتی نہیں نظر میری
عباس کی قسم نہيں تشنہ لبی کا غم کوئ
دکھ ہے یہ میری جاں سہمی ہیں بیبیاں
بازار شام آگیا

پالا ہے جس نے عمر بھر اکبر تجھے حجاب میں
غازی کے سامنے بھی وہ بیٹا رہی نقاب میں
غیروں میں بے ردا آتی ہے المّـاں
بازار شام آگیا

نوک سناں کو دیکھ کر یاور یہ کہہ رہی تھی ماں
آ دیکھ تو بھی نوجواں مادر کا اپنی امتحاں
آنکھیں نہ بند کر غیرت کے آسماں
بازار شام آگیا

اکبر میرے جواں
کس کو بلاۓ ماں
بازار شام آگیا

آن لائــن فـــرش عـــزا
http://www.xainabbas.wordpress.com

شائع کردہ

اپنی راۓ دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s