Wording – Kuch To Bolo Ankhein Kholo – Batool & Fatima Dhamani

صحفہ اول / اردو نوحے / بتول اور فاطمہ دھامانی / کچھ تو بولو آنکھیں کھولو

فاطمہ اور بتول دھامانی
فاطمہ اور بتول دھامانی

نوحہ خواں : بتول اور فاطمہ دھامانی
سال : 2010
کمپوزر : زین عباس
اس نوحے کے تحریر کرنے میں اگر کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہوں تو اس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں



کچھ تو بولو آنکھیں کھولو اصغر بہن بلاتی ہے
کوزہ لے کر ہاتھوں میں وہ تجھ کو ڈھونڈنے جاتی ہے

پانی جب پایا پیاسوں نے اے لال کلیجہ تھام لیا
تیری ہمشیر سکینہ نے یہ کہہ کر تیرا نام لیا
اے میری جان رن سے آؤ اصغر بہن بلاتی ہے

پانی نہ ملا اے لال تجھے اور تیر سے تیری پیاس بجھی
معصوم سکینہ ہاتھوں میں مشکیزہ لے کر کہتی تھی
میرے پیاسے پانی پی لو اصغر بہن بلاتی ہے

پانی اور مشک میرے بچے منسوب ہوۓ دونوں تجھ سے
کہتی ہے بہن وہ تشنہ دہن سوتا ہے خفا ہوکر مجھے سے
کیوں خفا ہو کچھ بتا دو اصغر بہن بلاتی ہے

پانی بن کر یہ خون جگر آنکھوں سے تیری فرقت میں بہا
بھولوں گی نہیں مرجاؤں گی رو رو کے بہن کرتی تھی صدا
لوٹ آؤ لوٹ آؤ اصغر بہن بلاتی ہے

پانی کی جگہ تربت کو تیری اشکوں سے بھگویا بابا نے
پھولوں کی ڈال جب مل نہ سکی نوحہ کیا اس دکھیا نے
نہ سکینہ کو رلاؤ اصغر بہن بلاتی ہے

آن لائــن فـــرش عـــزا
http://www.xainabbas.wordpress.com

Azadari @ Facebook Join to become E-Azadar
http://www.facebook.com/pages/Azadari-Facebook-Join-to-become-E-Azadar/41017642979

شائع کردہ

اپنی راۓ دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s