Wording – Bano Ka Ye Noha Tha – Batool & Fatima Dhamani 2010

صحفہ اول / اردو نوحے / بتول اور فاطمہ دھامانی / بانو کا یہ نوحہ تھا

فاطمہ اور بتول دھامانی
فاطمہ اور بتول دھامانی

نوحہ خواں : بتول اور فاطمہ دھامانی
سال : 2010
کمپوزر : زین عباس
اس نوحے کے تحریر کرنے میں اگر کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہوں تو اس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں


بانو کا یہ نوحہ تھا اکبر جو میرا ہوتا
بازو نہ میرا بندھتا اکبر جو میرا ہوتا

تھی کس کی یہ مجال آخر جو خیمے جلا دیتا
اور پاؤں ميں عابد کے زنجیر پنہا دیتا
کیا اس کا گلا بندھتا اکبر جو میرا ہوتا

بازاروں میں سر ننگے تشہیر ہوئ مادر
بالوں سے چھپاۓ منہ کہتی ہے یہ رورو کر
بلوے میں نہ سر کھلتا اکبر جو میرا ہوتا

جکڑا ہے گلا ایسا رسی میں سکینہ کا
بے چین ہے وہ بچی دم سینے میں گھٹتا تھا
غم سہتی نہ وہ دکھیا اکبر جو میرا ہوتا

پامال ہوا رن میں لاشہ شہہ والا کا
بے گور و کفن اب تک رن میں ہے پڑا لاشہ
سامان کفن کرتا اکبر جو میرا ہوتا

لاشہ اصغر پر کہتی ہے یہ رورو کر
تم مرگۓ اے بیٹا رونے کو رہی مادر
لٹتی نہ میری دنیا اکبر جو میرا ہوتا

زخمی ہے بدن ایسا درّوں کی اذیت سے
ہنس ہنس کے لعینوں نے ردا سر سے
ماں ہوتی نہ بے پردہ اکبر جو میرا ہوتا

خط فاطمہ صغرا کا آیا ہے مدینے سے
بیمار بہن کو تم کیوں لینے نہیں آۓ
وعدہ یہ وفا کرتا اکبر جو میرا ہوتا

بانو کا یہ نوحہ تھا اکبر جو میرا ہوتا
بازو نہ میرا بندھتا اکبر جو میرا ہوتا

آن لائــن فـــرش عـــزا
http://www.xainabbas.wordpress.com

Azadari @ Facebook Join to become E-Azadar
http://www.facebook.com/pages/Azadari-Facebook-Join-to-become-E-Azadar/41017642979

شائع کردہ

اپنی راۓ دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s