Wording – Hamarey hain Ya Hussain(a.s) – Nadeem Sarwar 2010-2011

صحفہ اول / اردو نوحے / سید ندیم رضا سرور / ہمارے ہیں یا حسین

سید ندیم رضا سرور
سید ندیم رضا سرور

شاعر : ریحان اعظمی
نوحہ خواں : سید ندیم رضا سرور
سال : 2010-2011
کمپوزر : زین عباس
اس نوحے کے تحریر کرنے میں اگر کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہوں تو اس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں۔

آڈیو
یہ نوحہ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے دئیے گئے لنک پر کلک کریں
ہمارے ہیں یاحسین(ع)۔MP3
(Right Click / Save Target as or copy paste the link into new browser)

ویڈیو


میں کربلا میں کھڑا ہوں
لباس سوگ میں ہوں
ہے اربعین حسین اور حسینی لشکر کا
کڑوڑوں لوگ ہیں سارے لباس سوگ میں ہیں
ہر ایک نسل ہر ایک رنگ ہر زبان کے لوگ
نگاہیں روضہ شبیر کے طواف میں ہیں
لبوں پہ ہاۓ حسینا غریب ہاۓ حسین

خیال آتا ہے اکسٹھویں سن ہجری کا
اور اس محرم کا یہی مقام تھا
اک بندہ خدا جس کا حسین نام تھا
رہ خدا میں ہتھیلی پہ سر اٹھاۓ ہوۓ
ہر ایک دور کے انساں کی آبرو کے لیے
وہ اپنے دل پہ بہتّر کے زخم اٹھاتا رہا
وہ اپنے جسم پہ زخموں پہ زخم کھاتا رہا
قدم بڑھاتا رہا قدم بڑھاتا رہا

بس ایک عزم تھا انسان سرخرو ہوجاۓ
بس ایک دھن تھی کہ انسانیت نہ مرجاۓ
انسانیت پہ ہے احساں حسین کا
احسان ہی تو ہے احسان کا صلہ
ہر دل میں یاحسین ہر دل میں کربلا
بیدار کردیا جو زمانہ حسین نے
بے ساختہ تمام زمانہ یہ کہہ اٹھا
کہ ہمارے ہیں یا حسین

انسانیت کی شان بڑھائ حسین نے
انسانیت بشر کو سکھائ حسین نے
انسانیت کی پیاس بجھائ حسین نے
انسان جب حسین کے پیکر میں ڈھل گیا
انسانیت پکاری وتعز من تشاء
کہ ہمارے ہیں یاحسین

دنیا کے ہر ادب میں ہے حصّہ ہے حسین کا
دنیا کی ہر زباں پہ ہے قبضہ حسین کا
انساں سمجھ رہا ہے یہ رتبہ حسین کا
تاریخ کو حسین نے حیران کردیا
سارے جہاں کے اہل قلم نے یہ لکھ دیا
کہ ہمارے ہیں یاحسین

سورہ میں مائَتَیْنِ کے اللہ نے سنایا
تخلیق کل میں انساں اشرف تجھے بنایا
انساں کا درد دل میں انسان کے اتارا
انسانیت کا مکتب گھر پنجتن کا رکھا
اس گھر نے پنجتن کے ایک شہر کو بسایا
پھر اپنا خون دے کے اس شہر کو سنوارا
یہ شہر نینوا ہے، یہ شہر ماریہ ہے
یہ شہر کربلا ہے، یہ شہر کربلا ہے
دل ہے تو کربلا، دل ہے تو یاحسین
ہمارے ہیں یاحسین

انسانیت سمجھنے چلو کربلا چلو
ہاں تھام لو حسین کے دامن کو تھام لو
حر، جون اور حبیب کی صف میں کھڑے رہو
دل ہے تو اب حسین کی آواز کو سنو
فرماتے تھے حسین وہ انسان نہیں ہے
لوٹے جو دل کا چین وہ انسان نہیں ہے
روۓ نہ جس کے نین وہ انسان نہیں ہے
ہنس دے جو سن کے بین وہ انسان نہیں ہے

انسانیت بچاۓ وہ انسان ہے انسان
انساں کا دکھ اٹھاۓ وہ انسان ہے انسان
درس وفا سکھاۓ وہ انسان ہے انسان
جو سب پہ رحم کھاۓ علم و عمل بڑھاۓ
انسانیت بچاۓ وہ انسان ہے انسان
انسان کو حسین نے انساں بنادیا
انسانیت کے لب پہ مسلسل تھی یہ صدا
کہ ہمارے ہیں یاحسین

دو طرح کے ہوا کرتے ہیں جہاں میں انساں
ہیں جدا راستے دونوں کے بقول قرآں
آدمی ایک یزید ازلی میں ابھرا
ایک انسان حسین ابن علی میں ابھرا
اس طرف خام خیالی نیا اسلام بنے
اس طرف عزم جلالی کہ شریعت نہ مٹے
اس طرف سلطنت، دولت و طاقت کا غرور
اس طرف چھوٹا سا گھر فاقوں ميں ہے منبع نور
ایک طاقت کے تکبّر میں جو اترا کے چلا
دوسرا نانا ۖ کے مرقد سے دعا پا کے چلا
ایک نو لاکھ کے لشکر کو لیے ساتھ چلا
دوسرا گود میں اصغر کو لیے ساتھ چلا
اس طرف نیزے تھے تلواریں تھیں اور بھالے تھے
اس طرف شوق شہادت لیے دل والے تھے
اس طرف جشن مناتے تھے زمانے والے
اس طرف بیکس و بے آس مدینے والے
اک طرف نشنہ دہاں سب کے سب خشک زباں
ان کا مقتل تھا جہاں ریت ساری تھی تپاں
دور تھی نہر رواں الحفیظ الاماں

کیا دل تھا دل حسین علیہ سلام کا
جس میں کوئ خیال نہ تھا انتقام کا
دل تھا تو دل پہ کار رسالتۖ اٹھا لیا
دل تھا تو دل پہ نور شہادت اٹھا لیا
دل تھا تو دل پہ بار قیامت اٹھا لیا
دل تھا خدا کے عشق میں سب گھر لٹا دیا
دل تھا تو دل پہ داغ بہتّر اٹھا لیا
دل تھا سنبھل کے لاشئہ اکبر اٹھالیا
حد ہے جنازہ علی اصغر اٹھا لیا
حسین دل ہے تیرا

کربلا کیا تھا لعینوں کی شقاوت کیا تھی
سوچ انسان کہ سادات کی حرمت کیا تھی

عید گزری ہے ابھی یعنی کہ عید قرباں
آپ نے پورا کیا ہوگا یہ رکن ایماں
چند شرطیں ہیں ذبیحہ کی براۓ انساں
شرطیں اوّل ہے کہ کمسن نہ ہو بیمار نہ ہو
اور بھوکا نہ ہو پانی کا طلبگار نہ ہو
رو برو سامنے حیوان کے حیوان نہ ہو
وقت ذبح وہ گھڑی بھر کو پریشان نہ ہو
شرط یہ بھی ہے چھری بھی نہ دکھاؤ اس کو
ذبح سے پہلے قضا سے نہ ڈراؤ اس کو
ہو چھری تیز مگر ہاتھ ہو نرمی سے روا
ایک ہی وار میں ہوجاۓ ذبیحہ قرباں
الحفیظ و الاماں

اب جگر تھام کے اے مومنوں یہ حال سنو
لو ذرا مقتل شبیر کا احوال سنو
ہاۓ حیواں کی دم ذبح شرائط اتنی
اور جس گھر سے یہ منسوب ہوئ قربانی
اس کی اولاد کی مقتل میں یہ توقیر ہوئ
کوئ بھی شرط ذبیحہ کی نبھائ نہ گئ
الحفیظ و الاماں

شرط اوّل تھی کہ کمسن نہ ہو دندان بھی ہوں
دودھ پیتا نہ ہو مرجانے کا امکان نہ ہو
تم کو اب مادر اصغر کی قسم اہل عزا
قتل اصغر جو ہوۓ سوچیے وہ کیا سن تھا
تیسرا فاقہ تھا چھ ماہ کا سن واویلا
ایک بھی دانت نہ نکلا تھا علی اصغر کا
ایک بالشت کا کرتا تھا علی اصغر کا
دودھ پینا بھی نہ چھوٹا تھا علی اصغر کا
پہلا کمسن ہے کہ جو ذبح نہیں نہر ہوا
تیر سہہ پہلو سے معصوم کو بھی مار لیا
الحفیظ و الاماں

شرط دوئم تھی کہ حیواں نہ ہو بھوکا پیاسا
اور ہفتم سے تھے سادات بنا آب و غذا
حلق تر کرتے ہیں قصّاب بھی قربانی کا
اور بہتّر کو دم ذبح بھی پانی نہ ملا
جلتی ریتی پہ کہیں اکبر و عباس گرے
اور کہیں عون و محمد کہیں قاسم تھے پڑے
ذبح حیواں کا نہیں حکم ہے حیواں کے حضور
یاں نہ شبیر سے زینب نہ سکینہ تھیں دور
شاہ ان کو وہ سوۓ شاہ امم دیکھتے تھے
ذبح ہوتے تھے حسین اہل حرم دیکھتے تھے
حسین یا حسین

منع دکھلانا چھری کا ہے پئہ قربانی
یاں تھا نو لاکھ کے نرغے میں علی کا جانی
اک جان آ خریدار اے اعظم بااللہ
ہر طرف ظالم و خونخوار اے اعظم بااللہ
اپنے رتبے کا کسی کو نہ شناسا دیکھا
دیکھا پیاسے نے جسے خون کا پیاسا دیکھا
آخری شرط چھری تیز ہو نرمی سے رواں
تاکہ تڑپے نہ اذیت سے ذرا بھی حیواں
آخری سجدہ ادھر کرنے لگے شاہ ہدی
کند کرتا ہوا خنجر کو ادھر شمر چلا
تیرہ ضربوں سے سر سید والا کاٹا
اور مظلوم ہر اک ضرب پہ دیتا تھا صدا
ضرب پہ ضرب لگی کہتے تھے امّاں امّاں
ضرب آخر پہ کہا ہو میرے عباس کہاں
یاحسین یاحسین یاحسین یاحسین

آن لائن فرش عزا
http://www.xainabbas.wordpress.com

شائع کردہ

6 خیالات “Wording – Hamarey hain Ya Hussain(a.s) – Nadeem Sarwar 2010-2011” پہ

  1. Anonymous :

    Excellent work..am following this since last year…plz post all other nohas of NS of this year and previous years..

    شکریہ، جی انشاء اللہ ضرور وہ تمام نوحے جن کا آپ نے کہا اس آن لائن فرش عزا میں شامل کیے جائيں گے، التماس دعا براۓ کل مومنین و مومنات۔

اپنی راۓ دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s