جنگِ خیبر، میرحسن میر، 2013

صحفہ اول / اردو نوحے / میر حسن میر / جنگ خیبر

میر حسن میر
میر حسن میر

شاعر : میر تکلّم منقبت خواں : میر حسن میر سال : 2013 کمپوزر : زین عباس اس منقبت کے تحریر کرنے میں اگر کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہوں تو اس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں


صاحب ناد علی، غیر فرار علی

سنو سنو سنو سنو
خیبر کا ماجرہ سنو

خیبر کی کارزار کا منظر سناتا ہوں
جبرئیل ساتھ دو میرا خیبر سناتا ہوں

خیبر کی جنگ اب بھی ہے دنیا میں یادگار
چالیس دن طویل ہوئی ہے یہ کارزار
خودساختہ رسول(ص) کے تھے جتنے جانثار
میدان چھوڑ چھوڑ کے ہوتے رہے فرار
لشکر میں مسلموں کے عجب انتشار تھا
ہر ایک کے دماغ پر مرحب سوار تھا

ہنستی تھی موت دیکھ کے ہر روز معرکہ
مصروف بھاگ دوڑ میں تھے سارے سورما
وہ جنگ تھی کہ جنگ بھی شرماۓ بارہا
چالیس دن ميں ایک بھی زخمی نہيں ہوا
مرحب جو پوچھتا تھا لڑو گے ابھی یہیں
تیغیں چھپا کے کہتے تھے سارے نہيں نہیں

لشکر کی ابتری پہ یہ کہنے لگے نبی(ص)۔
گھبراؤ مت لڑائی کی یہ شب ہے آخری
اب کل جو مرد ہوگا علم پاۓ گا وہ ہی
در پردہ تھا نبی(ص) کے لبوں پر علی علی
یعنی الم الف سے یہ لشکر اٹھاۓ گا
جو ع سے علم ہے وہ حیدر اٹھاۓ گا

ماضی سے اپنا پیچھا چھڑاتے ہیں کس لیے
اپنا ہدف علم کو بناتے ہيں کس لیے
پنجے کی سمت انگلی اٹھاتے ہيں کس لیے
اب سمجھے ہم علم وہ جلاتے ہیں کس لیے
ان کے بڑوں کو حق سے یہ منصب ملا نہيں
خیبر کا زخم ہے جو ابھی تک بھرا نہیں

ہر ایک کو شک تھا میرا ہی لیں گے رسول(ص) نام
جاگے ہوۓ تھے رات کہ آنکھیں تھی سرخ فام
جو چھوٹے قد تھے پنجوں کے بل تھے کھڑے تمام
اتنے میں لاۓ عرش سے جبرئیل یہ پیام
لشکر نہ کرسکے گا تمہاری کوئی مدد
اللہ کہہ رہا ہے کہو یاعلی مدد

ناد علیا مظہر العجائب
تجدہ عونا لک فی النوائب
کل ہم و غم سینجلی
بولایتک یاعلی یاعلی یاعلی

ناد علی زبان محمد(ص) پہ آگئی
اور اس طرف مدینے میں کہنے لگے علی
قنبر چلو پکار رہیں ہیں ہمیں نبی(ص)۔
دلدل کو پیار کرکے یہ فرمایا اس گھڑی
آج اس طرح سے چل کے فلک کانپنے لگے
دوڑے جو تیرے ساتھ ہوا، ہانپنے لگے

جیسا کہا تھا بادشاہ خاص و عام نے
ویسا کیا ہے دلدلِ محشر خرام نے
حیرت سے دیکھا لشکر خیرالانام نے
شیر خدا کھڑے تھے محمد(ص) کے سامنے
ہر چہرے پر سوال تھا حضرت کہاں سے آۓ
سلمان بولے آج علی آسمان سے آۓ

حق سے علم ملا سوۓ خیبر علی چلے
چومی رکاب فتح نے آکر، علی چلے
دین خدا کا بن کر مقدر، علی چلے
لشکر چلا زمیں پر، ہوا پر علی چلے
آیا ہے پھر جلال امام مبین کو
جبرئیل جلدی تھام لو آکر زمین کو

حجت مریض موت پہ حجت کری تمام
ایک فقرے نے سمیٹ لیا مقصد کلام
حیدر ہماری ماں نے رکھا ہے ہمارا نام
ہوشیار ذوالفقار ہوئی میری بے نیام
ذوالفقار بوتراب کی سن سے پہنچ گئ
مرحب کے سر پر موت سے پہلے پہنچ گئ

سر پر چلی تو سینے پر آکر ٹہر گئ
سینے میں سانس لے کر جگر میں اتر گئ
نکلی جگر کو کاٹ کے تابہ کمر گئ
تھی موت پیچھے پیچھے یہ بجلی جدھر گئ
کٹ کے عدو دینِ خدا خاک پر گرا
آدھا ادھر زمین پر آدھا ادھر گرا

جاتا ہے کس شکوہ سے اللہ کا اسد
خیبر کا در اکھاڑنے تنہا بشدومد
پہنچا قریب در جونہی وہ بندہ احد
بے ساختہ علی نے کہا یاعلی مدد
ایسے اکھاڑا لمحے میں خیبر کے باب کو
جس طرح شاخ سے کوئی توڑے گلاب کو

تقسیم سب میں مال غنیمت کیا گیا
حیدر کو حصّہ سب سے زیادہ دیا گیا
اس امر پر سوال نبی(ص) سے کیا گيا
کیوں عدل سے نہ کام یہاں پر لیا گيا
بولے رسول(ص) دخل کیا تجھ جیسے فرد کو
دیتے ہیں حصّہ دوگنا شریعت میں مرد کو

اللہ رے سخاوت مشکل کشاء علی
ایسا کہاں ہے میر تکلم کوئی سخی
دولت بنامِ مال غنیمت جو تھی ملی
خیرات کردی راہ خدا میں ہنسی خوشی
دہلیز در پہ پہنچے تو سلمان ساتھ تھے
لب پر خدا کا شکر تھا اور خالی ہاتھ تھے

سنو سنو سنو سنو
خیبر کا ماجرہ سنو

آن لائــن فـــرش عـــزا http://www.xainabbas.wordpress.com

شائع کردہ

ایک خیال “جنگِ خیبر، میرحسن میر، 2013” پہ

اپنی راۓ دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s