خون برسا – علی شناور، علی جی – 2016

صحفہ اول / اردو نوحے / علی شناور علی جی / خون برسا

نوحہ خواں علی شناور
نوحہ خواں علی شناور


شاعر : ریحان اعظمی
نوحہ خواں : فرزندان ندیم رضا سرور علی شناور و علی جی
سال : 2016
کمپوزر : عباس زین
اس نوحے کی کمپوزنگ کرنے میں اگر کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہوں تو اس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں

یہ نوحہ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے دئیے گئے لنک پر کلک کریں
خون برسا.MP3
(Right Click / Save Target as or copy paste the link into new browser)

خون برسا، خون برسا
خون برسا، نہ برسنا تھا نہ بادل برسے
اک اک قطرے پانی کو شہہ دیں ترسے

پیاس جب حد سے بڑھی تو روکے سکینہ نے کہا
دور کتنی ہے چچا نہر بتائو گھر سے

اب کہاں خاک پہ بیٹھی ہو سکینہ اٹھو
کون آیا ہے پلٹ کر جو گیا رن گھر سے

گھڑکیاں شمر کی کھائیں جو کیا باپ کو یاد
کان کے درد سے روئی جو طمانچے برسے

ابھی شبیر ہے زندہ وہیں ٹہرو زینب
تم کو اکبر کی قسم، تم نہ نکلنا گھر سے

میرے نانا کے مدینے تجھے زینب کا سلام
ٹھوکریں کھا کے پلٹ آئی ہوں میں در در سے

حق و باطل کا ہو ٹکرائو تو دل لڑتے ہیں
جنگ یہ جیتی نہیں جاتی کبھی لشکر سے

اک اک قطرے پانی کو شہہ دیں ترسے
خون برسا، نہ برسنا تھا نہ بادل برسے

آن لائــن فـــرش عـــزا
http://www.xainabbas.wordpress.com

شائع کردہ

اپنی راۓ دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s